نئی دہلی،11؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ملک کے 7لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ اور ریاست کے 98ممبران اسمبلی کی املاک محکمہ انکم ٹیکس کے رڈار پر ہیں۔مرکزی براہ راست ٹیکس بورڈ(سی بی ڈی ٹی)نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کر کے بتایا کہ دو انتخابات کے درمیان ان عوامی نمائندوں کی جائیداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔دراصل لکھنؤ کے ایک این جی او ’’لوک پرہری‘‘نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے الزام لگایا تھا کہ 26لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ، 11راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ اور 257اراکین اسمبلی کے انتخابی حلف نامے کو دیکھنے پر دو انتخابات کے درمیان ان کی جائیداد میں زبردست اضافے کا پتہ چلتا ہے۔اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے سی بی ڈی ٹی سے جواب طلب کیا تھا۔ایسے میں سی بی ڈی ٹی نے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامے میں بتایا کہ ان الزامات پر محکمہ انکم ٹیکس نے جانچ کی، جس میں پتہ چلا کہ 26لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ میں سے 7، اور 98ممبران اسمبلی کی جائیداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ دو انتخابات کے درمیان جن لیڈروں کی جائیداد 500فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے ان کی پوری تفصیلات دی جائے۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے سی بی ڈی ٹی سے کہا کہ رڈار پرآئے ان رہنماؤں پر کیا کاروائی کی؟۔اس معاملے کی سماعت منگل کو بھی جاری رہے گی اور امید ہے کہ سی بی ڈی ٹی بے شمار جائیداد حاصل کرنے والے ان لیڈروں کے نام ایک سیل بند رپورٹ میں سپریم کورٹ میں دائر کرے گا۔